Rasta koi mayyaar say Hat kar nahi dekha
غزل
رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھا
قامت سے کسی سائے کے گھٹ کر نہیں دیکھا
دیوار انا سے تھیں پرے اس کی صدائیں
پتھر ہوئے پر ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا
کیا جانے کسی پیاسے کے کام آنے کی راحت
کوزے میں سمندر نے سمٹ کر نہیں دیکھا
ہر شہر کو اک ضد سی رہی گھر نہ بنا پائیں
کس شہر کے دامن سے لپٹ کر نہیں دیکھا
احساس کو ملتی نہیں اظہار کی خلعت
لفظوں کی اگر دھار پہ کٹ کر نہی دیکھا
نسیم سید
Naseem Syed