MOJ E SUKHAN

رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھا

Rasta koi mayyaar say Hat kar nahi dekha

غزل

رستہ کوئی معیار سے ہٹ کر نہیں دیکھا
قامت سے کسی سائے کے گھٹ کر نہیں دیکھا

دیوار انا سے تھیں پرے اس کی صدائیں
پتھر ہوئے پر ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا

کیا جانے کسی پیاسے کے کام آنے کی راحت
کوزے میں سمندر نے سمٹ کر نہیں دیکھا

ہر شہر کو اک ضد سی رہی گھر نہ بنا پائیں
کس شہر کے دامن سے لپٹ کر نہیں دیکھا

احساس کو ملتی نہیں اظہار کی خلعت
لفظوں کی اگر دھار پہ کٹ کر نہی دیکھا

نسیم سید

Naseem Syed

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم