MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغ

غزل

دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغ
دیکھنا چاہتے ہیں ہم تری راتوں کے چراغ

عام سی شب کو شب خاص بنا دیتے ہیں
اک تری یاد میں جلتی ہوئی آنکھوں کے چراغ

شہر یاراں میں کہیں کوئی شناسا ہی نہیں
نہ وہ برگد نہ قبیلہ نہ رواجوں کے چراغ

آج بھی یار برستی ہیں کسی کی آنکھیں
آج بھی کوئی جلاتا ہے مرادوں کے چراغ

خوش نصیبی سے ہم اک طاق میں روشن ہیں یہاں
کم ہی ملتے ہیں وگرنہ یہ مزاجوں کے چراغ

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم