MOJ E SUKHAN

کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا

کسی کے نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا
وہ رہ گزر ہوں جسے کارواں نہیں ملتا

قدم قدم پہ تری راہ میں فلک حائل
مجھے تلاش سے بھی آسماں نہیں ملتا

انہیں طریقۂ لطف و کرم نہیں معلوم
ہمیں سلیقۂ آہ و فغاں نہیں ملتا

عروس دہر کو غازہ بھی چاہئے لیکن
غبار جادۂ امن و اماں نہیں ملتا

تجھے یہ غم کہ خوشی کو تری ثبات نہیں
مجھے گلہ کہ غم جاوداں نہیں ملتا

دھڑک رہا ہے ہر اہل وفا کے سینے میں
ہمارا درد بھرا دل کہاں نہیں ملتا

سبھی کو دعوئے مہر و وفا ہے دنیا میں
جو مہرباں نہ ہو وہ مہرباں نہیں ملتا

غم حیات کے پر ہول قہقہوں کے سوا
کہیں سے اپنا جواب فغاں نہیں ملتا

دل شکستہ کو لے جائیے کہاں باسطؔ
دماغ نخوت شیشہ گراں نہیں ملتا

باسط بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم