MOJ E SUKHAN

رگ احساس میں نشتر ٹوٹا

رگ احساس میں نشتر ٹوٹا
ہاتھ سے چھوٹ کے ساغر ٹوٹا

ٹوٹنا تھا دل نازک کو نہ پوچھ
کب کہاں کس لئے کیوں کر ٹوٹا

سینہ دھرتی کا لرز اٹھا ہے
آسماں سے کوئی اختر ٹوٹا

جھک گیا پائے بتاں پر لیکن
پتھروں سے نہ مرا سر ٹوٹا

سخت جانی مری توبہ توبہ
قتل کرتے تھے کہ خنجر ٹوٹا

اشک پلکوں سے گرا یوں جیسے
خشک ٹہنی سے گل تر ٹوٹا

اے ضیاؔ ہو کے رہا زنداں سے
اڑنے پایا بھی نہ تھا پر ٹوٹا

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم