MOJ E SUKHAN

درد سینے میں کہیں چیخ رہا ہو جیسے

درد سینے میں کہیں چیخ رہا ہو جیسے
تیری جانب سے کوئی تیر چلا ہو جیسے

میرے اشکوں کے سمندر میں کوئی تاج محل
دھیرے دھیرے سے کہیں ڈوب رہا ہو جیسے

عمر گزری مگر احساس یہی رہتا ہے
وہ ابھی اٹھ کے مرے گھر سے گیا ہو جیسے

تیرے ہر نشتری جملے بھی لگے ہیں پیارے
تیرے دشنام کی تاثیر جدا ہو جیسے

شمع کی لو نے اب سر کو جھکایا ایسا
جلتے رہنا بھی مرا میری خطا ہو جیسے

سیدہ نفیس بانو شمع

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم