MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی
ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ہجر کی تمازت سے وصل کے الاؤ تک
لڑکیوں کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی
بات کے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

زعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے
اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤں پڑ جائیں
چوڑیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگنی ہے

نوشی گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم