MOJ E SUKHAN

زندگی کا یہی فسانہ ہے

زندگی کا یہی فسانہ ہے
جو بھی آیا ہے اس کو جانا ہے

کس لئے موت سے ڈریں آخر
موت کو ایک دن تو آنا ہے

جسم اور روح کا تعلق تو
شاخِ نازک پہ آشیانہ ہے

خاک سے خاک تک پہنچنے کا
زندگی تو بس اک بہانہ ہے

کوئی رشتہ بھی پائیدار نہیں
سب کو آخر بچھڑ ہی جانا ہے

گو کہ فانی ہے یہ جہاں لیکن
دل بضد ہے کہ دل لگانا ہے

ہم سے ذیادہ قریب ہے رب کے
جس کو کہتے ہیں سب دوانہ ہے

خواہشِ نفس ہو اگر صیاد
اس سے بہتر تو قید خانہ ہے

بات کچھ خاص ہے صباؔ تجھ میں
تیرا انداز عارفانہ ہے

صبا عالم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم