MOJ E SUKHAN

ہوا جفاؤں کی ایسی چلا گیا کوئی

ہوا جفاؤں کی ایسی چلا گیا کوئی
چراغ میری وفا کا بجھا گیا کوئی

نہ کوئی نقش قدم ہے نہ منزلوں کا پتا
یہ راستہ مجھے کیسا دکھا گیا کوئی

اسی امید پے میں انتظار کرتی رہی
میں لوٹ آؤنگا کہہ کر چلا گیا کوئی

تمام عمر کے احساں بھلا دیے اس نے
ذرا سی بات پہ ہو کر خفا گیا کوئی

اب اس سے بڑھکے بھلا بے وفائی کیا ہوگی
ہنسایا جس نے اسی کو رلا گیا کوئی

کسی کے عشق میں سب کچھ لٹا دیاوشمہ
دل و دماغ پہ اس طرح چھا گیا کوئی

وشمہ خان وشمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم