MOJ E SUKHAN

صورت گردش حالات بدلتی ہی نہیں

غزل

صورت گردش حالات بدلتی ہی نہیں
اپنی محرومیٔ دل ہے کہ جو ٹلتی ہی نہیں

دل کا یہ حال کہ غم کا نہ خوشی کا احساس
اور طبیعت کا یہ عالم کہ سنبھلتی ہی نہیں

اک تمنا ہے کہ ہو جیسے رگوں میں پیوست
ایک حسرت ہے کہ جو دل سے نکلتی ہی نہیں

اب مرا ساتھ نہ چھوڑے شب ہجراں سے کہو
کتنی مانوس ہے یہ رات کہ ڈھلتی ہی نہیں

آ بتاؤں تجھے پہچان خلوص دل کی
یہ وہ مے ہے کہ جو آنکھوں سے ابلتی ہی نہیں

عزت نفس نہ کھونا یہ وہ نازک شے ہے
گر کے نظروں سے یہ کم بخت سنبھلتی ہی نہیں

بزمؔ اب اس کی وفا سے بھی نہ بہلے شاید
میری آزردہ طبیعت کہ بہلتی ہی نہیں

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم