MOJ E SUKHAN

نظر کے سامنے حسن بہار رہنے دے

غزل

نظر کے سامنے حسن بہار رہنے دے
جمال دید کو پرور دگار رہنے دے

سوال شوق کا کوئی جواب ہو کہ نہ ہو
ہمارے دل میں امیدیں ہزار رہنے دے

نہ دیکھ حد نظر دور تک سمندر ہے
رفاقتیں ابھی ساحل کے پار رہنے دے

کرم شعار نہ تھے معتبر نہیں ٹھہرے
سو آج ہم کو ذرا دل فگار رہنے دے

یہ چاند روز نئے خواب کیوں دکھانے لگا
بس ایک خواب نگاہوں پہ بار رہنے دے

جو سوزش لب جاں مستقل نواگر ہو
تو پھر کہاں کوئی غم مستعار رہنے دے

نسیمؔ اب تو یہ ماحول راس آیا ہے
خدا کرے تو اسے سازگار رہنے دے

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم