MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا

غزل

چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا
آنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گا

وہ لہو پی کر بڑے انداز سے کہتا ہے یہ
غم کا ہر طوفان اس کے گھر کے باہر آئے گا

کیا تماشا ہے ڈرے سہمے ہوئے ہیں سارے لوگ
کیا مری بستی میں کوئی ظالم افسر آئے گا

لوٹ کر پیچھے کبھی جاتی نہیں رفتار وقت
زندگی کو اب مٹانے کون خود سر آئے گا

میں ہوں اس بزم حسیں کا مدتوں سے منتظر
سب کے ہاتھوں میں جہاں لبریز ساغر آئے گا

تم اسی وادی میں ٹھہرو انتظار اس کا کرو
وہ تمہارے پاس اک پیغام لے کر آئے گا

کوچہ کوچہ سے اٹھے گی غم زدوں کی ایک لہر
قریہ قریہ سے بہی خواہوں کا لشکر آئے گا

ہاتھ میں مشعل لیے ہر سمت پہرے پر رہو
رات کی چادر لپیٹے حملہ آور آئے گا

دیکھ اے سیاح میرے دیس کی اجڑی بہار
اس سے بڑھ کر بھی کوئی غمگین منظر آئے گا

میری سرخیٔ تصور سے ہیں کیوں ناراض آپ
کیا ہرا پیڑ آپ تک بھی پھول لے کر آئے گا

ڈھل چلی دوراںؔ جوانی کی چمکتی دوپہر
اب بھلا پہلو میں میرے کون دلبر آئے گا

اویس احمد دوراں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم