MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے

جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیں
ان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے

باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں
کسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے

خودکشی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی سب میں
اور کچھ دن یونہی اوروں کو ستایا جائے

گھر سے مسجد ہے بہت دور، چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے، ادھر کے ہم ہیں

ندا فاضلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم