MOJ E SUKHAN

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہے

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہے
جیسے یہ زندگی اسی کی ہے

وہ کہیں آس پاس ہے موجود
ہو بہ ہو یہ ہنسی اسی کی ہے

خود میں اپنا دکھا رہا ہوں دل
اس میں لیکن خوشی اسی کی ہے

یعنی کوئی کمی نہیں مجھ میں
یعنی مجھ میں کمی اسی کی ہے

کیا مرے خواب بھی نہیں میرے
کیا مری نیند بھی اسی کی ہے

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم