MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پتا ہوں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں میں

پتا ہوں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں میں
گرتے ہوئے درخت سے کتنا بڑا ہوں میں

پرچم ہوں روشنی کا مرا احترام کر
تاریکیوں کا راستہ روکے کھڑا ہوں میں

میرے ہرے وجود سے پہچان اس کی تھی
بے چہرہ ہو گیا ہے وہ جب سے جھڑا ہوں میں

مت سوچ یہ کہ میری کسی نے نہیں سنی
یہ دیکھ اپنی بات پہ کتنا اڑا ہوں میں

اب اس کے رابطے بھی مرے دشمنوں سے ہیں
جس کے وقار کے لیے اظہرؔ لڑا ہوں میں

اظہر ادیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم