MOJ E SUKHAN

کیفیت مآل محبت نہ پوچھیے

غزل

کیفیت مآل محبت نہ پوچھیے
یہ زندگی کی تلخ حقیقت نہ پوچھیے

جلوہ فروز وہ ہیں بہ رعنائیٔ جمال
اور انفعال ذوق طبیعت نہ پوچھیے

جس کو بڑا خیال ہے دیوانگی میں بھی
وارفتۂ جنوں کی فراست نہ پوچھیے

کھو بیٹھتا ہے کوئی متاع دل و نظر
آتی ہے اس طرح بھی قیامت نہ پوچھیے

دل سا مقام جس کے لیے نذر ہے تمام
حسن خیال یار کی رفعت نہ پوچھیے

اک جام میں کیا ہے حقائق سے آشنا
یہ پیر میکدہ کی کرامت نہ پوچھیے

انعامؔ ہے انہیں سے رگ و پے میں تازگی
احساس و حسن ذوق کی دولت نہ پوچھیے

انعام تھانوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم