کچھ اتنے خوش تھے سانس کی آہ و فغاں کے ساتھ
ہم نے یقیں کو باندھ دیا ہے گماں کے ساتھ
اہلِ زمیں نے کب کہاں جینے دیا ہمیں
اب جا کے گھر بسائیں گے ہم آسماں کے ساتھ
اس زندگی کو روگ کی صورت نہیں کیا
ہم قہقہے لگاتے ہیں اشکِ رواں کے ساتھ
یہ داستانِ عشق یونہی صبح تک چلے
ہم اک پہر نبھا چکے اپنے بیاں کے ساتھ
اک قرض تھا جو مجھ سے ادا ہو نہیں سکا
نیلام ہو چکا ہوں میں اپنے مکاں کے ساتھ
اک عالمِ جنوں میں ہے تنہا مرا سفر
میری کبھی بنی ہی نہیں کارواں کے ساتھ
سنتا ہوں زرد پتوں کی روداد میں بشؔر
کچھ دن رہا ہے میرا تعلق خزاں کے ساتھ
مبشر سلیم بشؔر