MOJ E SUKHAN

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا

غزل

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا
جہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرنا

میں نیند ہوں مری حد ہے تمہاری پلکوں تک
بدن جلا کے مرا انتظار مت کرنا

میں بچ گیا ہوں مگر سارے خواب ڈوب گئے
مری طرح بھی سمندر کو پار مت کرنا

بہا لو اپنے شہیدوں کی قبر پر آنسو
مگر یہ حکم ہے کتبے شمار مت کرنا

ہوا عزیز ہے لیکن یہ اس کی ضد کیا ہے
تم اپنے گھر کے چراغوں کو پیار مت کرنا

یہ وقت بند دریچوں پہ لکھ گیا قیصرؔ
میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم