MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ
ہے ورنہ کون شے مئے گل فام سے لذیذ

چٹکارے کیوں بھرے نہ زباں تیرے ذکر میں
کوئی مزہ نہیں ہے ترے نام سے لذیذ

گالی وہ اس کی ہو ہو کی آنکھیں دکھاتے وقت
ہے واقعی کہ پستہ و بادام سے لذیذ

انشا کو لذت اس کی جوانی کی حسن کی
ہے زور طِفلگی کے بھی ایام سے لذیذ

آ جاوے پختگی پہ جو میوہ درخت کا
وہ کیوں نہ ہو بھلا ثمر خام سے لذیذ

انشاء اللہ خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم