MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا
لیکن میں چاند رات میں باہر نہیں گیا

آنکھوں میں اڑ رہا ہے ابھی تک غبار ہجر
اب تک وداع یار کا منظر نہیں گیا

اے شام ہجر یار مری تو گواہی دے
میں تیرے ساتھ ساتھ رہا گھر نہیں گیا

تو نے بھی سارے زخم کسی طور سہ لیے
میں بھی بچھڑ کے جی ہی لیا مر نہیں گیا

سادہ فصیل شہر مجھے دیکھتی رہی
لیکن میں تیرا نام بھی لکھ کر نہیں گیا

بخشا شب فراق کو دل نے ابد کا طول
شب بھر لہولہان رہا مر نہیں گیا

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم