MOJ E SUKHAN

محبت غیر فانی ہے مرض ہے لا دوا میرا

غزل

محبت غیر فانی ہے مرض ہے لا دوا میرا
خدا کی ذات باقی ہے محبت ہے خدا میرا

نہ جیتے جی ہوا ہرگز وفا نا آشنا میرا
پر اس کی داستاں بن کر رہا ذکر وفا میرا

جفا کا تیری طالب ہوں وفا ہے مدعا میرا
یقین نا مرادی پر بھی دیکھو حوصلہ میرا

یہ کیسی چھیڑ ہے کیوں پوچھتے ہو مدعائے دل
ہوئے جب مدعی کے تم سنو کیوں مدعا میرا

پڑے کیوں سوچ میں تم قتل کرکے مہرباں مجھ کو
وفا کی تھی خطا کی تھی نہیں کچھ خوں بہا میرا

نہیں معلوم کس پر آج پھر مشق جفا ہوگی
کہ ہے ان کے لبوں پر آج پھر ذکر وفا میرا

دل آزاری کا باعث ہو نہیں سکتی جفا تیری
وہی ہے نا مرادی پر بھی انداز وفا میرا

خدا جانے حریم ناز ہے کتنی بلندی پر
کہ گزریں مدتیں لیکن ہے نالہ نارسا میرا

مجھے محشر میں بھی امید کم ہے داد پانے کی
خدائی جب بتوں کی ہے تو کیا ہوگا خدا میرا

مسیحائی کا ان کی امتحاں منظور ہے ورنہ
مجھے معلوم ہے بیخودؔ مرض ہے لا دوا میرا

عباس علی خان بیخود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم