MOJ E SUKHAN

وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوں

غزل

وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوں
خطا کر رہا ہوں سزا چاہتا ہوں

محبت کا یہ بھی کوئی مرحلہ ہے
کہ میں نالۂ نارسا چاہتا ہوں

نگاہوں کی عفت دلوں کی طہارت
میں سر سے قدم تک حیا چاہتا ہوں

تردد توہم کی ظلمت مٹا کر
میں علم و یقیں کی ضیا چاہتا ہوں

میں اخلاق و کردار و روحانیت میں
تنزل نہیں ارتقا چاہتا ہوں

خدا کی شریعت ہو نافذ زمیں پر
میں انسانیت کی بقا چاہتا ہوں

ہے جنت تو تیری رضا کی علامت
الٰہی میں تیری رضا چاہتا ہوں

عروجؔ ان کا پیغام پہنچا تو مجھ تک
مگر میں کچھ اس سے سوا چاہتا ہوں

عروج قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم