MOJ E SUKHAN

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا
تمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا

تباہ کر گیا اک لمحۂ خراب مجھے
کہ میں نے حلقۂ آوارگاں کو چھوڑ دیا

کہیں پناہ نہیں ملتی لمحہ بھر کے لیے
کہ جب سے محفل دل دادگاں کو چھوڑ دیا

بس ایک کنج خس و خاک میں سکون ملا
سو میں نے حلقۂ سیارگاں کو چھوڑ دیا

تمہارے بعد گزشتہ رہا نہ حال رہا
سو دل نے خدشۂ آئندگاں کو چھوڑ دیا

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم