MOJ E SUKHAN

ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں

غزل

ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں
رستہ خود اپنے گھر کا ہمیں سوجھتا نہیں

نقش وفا کسی کا کوئی ڈھونڈھتا نہیں
اہل وفا کا پھر بھی بھرم ٹوٹتا نہیں

اہل ہنر کی بات تھی اہل نظر کے ساتھ
اب تو کوئی بھی ان کی طرف دیکھتا نہیں

ہم سے ہوئی خطا تو برا مانتے ہو کیوں
ہم بھی تو آدمی ہیں کوئی دیوتا نہیں

دامن تمہارا ہاتھ سے جاتا رہا مگر
اک رشتۂ خیال ہے کہ ٹوٹتا نہیں

سورج کے نور پر بھی اندھیروں کا راج ہے
اے دردؔ دور تک مجھے کچھ سوجھتا نہیں

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم