MOJ E SUKHAN

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح
میں اپنے دشت میں تنہا چراغ شب کی طرح

خیال و فکر کی سچائیاں بھی شامل ہیں
مرے لہو میں مرے شجرۂ نسب کی طرح

وہ اپنی خلوت جاں سے پکارتا ہے مجھے
میں چاہتا ہوں اسے حرف زیر لب کی طرح

خوشا یہ دور کہ وہ بھی ہے ساتھ ساتھ مرے
مرے خیال کی صورت مری طلب کی طرح

میں اپنے عہد کی آواز نارسا ہی سہی
دھڑک رہا ہوں دلوں میں سکوت شب کی طرح

نہ کھل کے سیر ہوا میں نہ جل کے راکھ ہوا
کہ میری پیاس بھی ہے تیرے رنگ لب کی طرح

رضی اختر سوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم