MOJ E SUKHAN

حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ

غزل

حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ
جسے تم آئے دن کہتے ہو یہ ہے کوئی دیوانہ

بھرم قائم ہے تیرے نام سے دونوں کا دنیا میں
حقیقت میں ترا مسکن نہ کعبہ ہے نہ بت خانہ

دل شیدا کی فطرت کو کوئی سمجھے تو کیا سمجھے
یہ فرزانے کا فرزانہ یہ دیوانے کا دیوانہ

محبت نے لگا دی آگ دونوں کو برابر کی
ادھر تو شمع جلتی ہے ادھر جلتا ہے پروانہ

نہ پوچھو ہم سے اندازہ یہ ہے توہین پینے کی
ہمارے میکدے میں کوئی شیشہ ہے نہ پیمانہ

رضا کاران الفت موت سے خائف نہیں ہوتے
ہمیشہ آگ ہی سے کھیلتا رہتا ہے پروانہ

مذمت مے کی کرنے آئے ہو میخانے میں واعظ
ذرا سوچو تو یہ بھی کام ہے کوئی شریفانہ

تمنا حور و غلماں کی مبارک ہو تجھے واعظ
ہمیں تو یہ بتا جنت میں ہوگا کوئی مے خانہ

پرائی آگ میں جلنا بہت دشوار ہے ساحرؔ
یہ کام انساں کو لازم تھا مگر کرتا ہے پروانہ

ساحر سییالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم