MOJ E SUKHAN

لگے جب صبح کی کشتی کنارے شب

لگے جب صبح کی کشتی کنارے شب
کیا کرتی ہے جانے کیا اشارے شب

نہیں شکوہ مگر اتنا بتا دو تم
کوئی تم بن بھلا کیسے گزارے شب

چھڑا کر ہاتھ دنیا سے مری خاطر
چلے آؤ جہاں ہو تم پکارے شب

ذرا سوچو یہ کس کے واسطے اپنے
لیے پھرتی ہے دامن میں ستارے شب

اٹھا کے رنج و غم سارے زمانے کے
مرے دل پہ نہ جانے کیوں اتارے شب

الماس شبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم