MOJ E SUKHAN

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا

غزل

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا
ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا

ٹوٹ جاتے ہیں کبھی میرے کنارے مجھ میں
ڈوب جاتا ہے کبھی مجھ میں سمندر میرا

کسی صحرا میں بچھڑ جائیں گے سب یار مرے
کسی جنگل میں بھٹک جائے گا لشکر میرا

باوفا تھا تو مجھے پوچھنے والے بھی نہ تھے
بے وفا ہوں تو ہوا نام بھی گھر گھر میرا

کتنے ہنستے ہوئے موسم ابھی آتے لیکن
ایک ہی دھوپ نے کمھلا دیا منظر میرا

آخری جرعہء پر کیف ہو شاید باقی
اب جو چھلکا تو چھلک جائے گا ساغر میرا

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم