MOJ E SUKHAN

کمرے میں تھی خراٹوں کی کھڑ کھڑ متواتر

غزل

کمرے میں تھی خراٹوں کی کھڑ کھڑ متواتر
سانسیں تری بجتی رہیں پھڑ پھڑ متواتر

سوتے میں بھی تکتی رہی لڑنے کے تو سپنے
تھی نیند کی حالت میں بھی بڑ بڑ متواتر

ککڑ کوئی کرتا رہا تنگ اس کو مسلسل
ککڑی تری کرتی رہی کڑ کڑ متواتر

شاید مجھے کہہ دے کہ رکو حلوہ تو کھا جاؤ
حسرت سے میں تکتا رہا مڑ مڑ متواتر

کیا ڈھیٹ مقرر تھا جو کھاتا رہا ہنس ہنس
چھتر تھے کہ پڑتے رہے اڑ اڑ متواتر

تھی اس کی نڑی منہ میں لگاتار سحر تک
سنتا رہا حقے کی میں گڑ گڑ متواتر

مت پوچھئے سڑ سڑ کے میں ہوتا رہا کوئلہ
جب میں نے سنی چائے کی سڑ سڑ متواتر

یہ دور وبا ہے ارے گیلانیؔ جی پرہیز
مت ساتھ مرے بیٹھیے جڑ جڑ متواتر

سلمان گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم