MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے
نت نئی بات چھوڑ جاتی ہے

عشق چلتا ہے تا ابد لیکن
زندگی ساتھ چھوڑ جاتی ہے

دل بیابانی ساتھ رکھتا ہے
آنکھ برسات چھوڑ جاتی ہے

چاہ کی اک خصوصیت ہے کہ یہ
مستقل مات چھوڑ جاتی ہے

مرحلے اس طرح کے بھی ہیں کہ جب
ذات کو ذات چھوڑ جاتی ہے

ہجر کا کوئی نا کوئی پہلو
ہر ملاقات چھوڑ جاتی ہے

فرحت عباس شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم