MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کیا جلا ، کہ داغ وفاؤں کے گھٹ گئے

دل کیا جلا ، کہ داغ وفاؤں کے گھٹ گئے
موسم دھواں دھواں ہوئے آ کر پلٹ گئے

کس زاویے سے آئے میری زندگی میں تم
جتنے تھے میرے سائے وہ سب مجھ سے کٹ گئے

چپ چاپ زندگی بھی کھڑی دیکھتی رہی
ٹکڑے جگر کے سب میرے رشتوں میں بٹ گئے

پتھر غموں کے اتنے تھے اس راہِ زیست میں
جھنجلا کے آدھی راہ سے ہم خود پلٹ گئے

ہر آرزو جو تم سے تھی وابستہ ، جل گئی
اس راکھ سے ہی یادوں کے سائے لپٹ گئے

کب سے پتہ تھا رازؔ کہ رونا ہے ایک دن
کچھ دن کسی کے ساتھ ، چلو اچھے کٹ گئے

رازداں راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم