غزل
پھر خزاں گزری اب بہار ہے کیا؟
زندگی میں پھر انتشار ہے کیا؟
چھائی ہیں پھر سُہانی بدلیاں سی
تو محبت کا یہ خمار ہے کیا؟
میرے ہر غم کو ناپنے والے
میرے غم کا کوئی شمار ہے کیا؟
جب بھی ملتے ہو ، دل دُکھاتے ہو
دل میں اب بھی بھرا غبار ہے کیا؟
رُوح بے چین ایسی میری ہوئی
چھن گیا چین اور قرار ہے کیا؟
جان کب چھوٹتی ہے مسئلوں سے
زیست سے اب نرا فرار ہے کیا؟
کھِل گئے گُل کیا اب تری رہ میں
زندگی تیری لالہ زار ہے کیا؟
میں ڈٹی ہر محاذ پر ہی ثمرؔ
مجھ سے بہتر تو شہسوار ہے کیا؟
ثمرین ندیم ثمر