MOJ E SUKHAN

کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کرو

غزل

کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کرو
پتھر کو موم خون کو پانی لکھا کرو

جدت کی رو میں لوگ کہاں سے کہاں گئے
تم سے بنے تو بات پرانی لکھا کرو

وہ عہد ہے کہ شعلہ فشاں بجلیوں کو بھی
غزلوں میں رنگ و نور کی رانی لکھا کرو

لفظوں کو اپنے اصل معانی سے عار ہے
اب دوستوں کو دشمن جانی لکھا کرو

ہے بے حسوں کی بھیڑ نہ ہوگا کوئی اثر
اخبار میں ہزار گرانی لکھا کرو

لکھنے کے واسطے کوئی عنوان چاہئے
فریاد و آہ و اشک فشانی لکھا کرو

شہرت کے خواستگارو مرا مشورہ ہے یہ
غالبؔ کا اپنے آپ کو ثانی لکھا کرو

دانشؔ زہ نصیب ملے زخم لالہ رنگ
ہر زخم دل کو ان کی نشانی لکھا کرو

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم