MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حرف اور صوت کی جاگیر پہ آئے ہوئے ہیں

غزل

حرف اور صوت کی جاگیر پہ آئے ہوئے ہیں
میرا مطلب ہے در میرؔ پہ آئے ہوئے ہیں

جس قدر گھاؤ لگے ہیں تن خستہ پہ مرے
اتنے الزام بھی شمشیر پہ آئے ہوئے ہیں

اک عجب قید سے گزرے ہیں کہ زخموں کے نشاں
جسم تو جسم ہے زنجیر پہ آئے ہوئے ہیں

کیسے کرتا نہ بھلا اس کی محبت کا یقیں
نقش اس کے مری تصویر پہ آئے ہوئے ہیں

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم