غزل
خدا کو بھولنا آسان ہے
ہمارا مسئلہ انسان ہے
بتا دو اپنے دل سے پوچھ کر
مرے جینے کا کیا امکان ہے
یہاں تو کرشن بھی ہیں کنس بھی
ہمارا عشق ہندستان ہے
ضرورت ہی نہیں ہے نام کی
تری خوشبو مری پہچان ہے
ادھر بھی پھینکیے خنجر کوئی
ہمارے جسم میں بھی جان ہے
ستاروں پر قناعت کیجیئے
ہماری چھت بہت ویران ہے
فہمی بدایونی