MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں اس زمین کی مٹی مجھے خدا نہ کہو

غزل

تمہارا ذوق پرستش مجھے عزیز مگر
میں اس زمین کی مٹی مجھے خدا نہ کہو

تمہارے ساتھ اگر دو قدم بھی چل نہ سکوں
تو خستہ پا ہوں مجھے مجرم وفا نہ کہو

یہ ایک پل کی دھڑکتی حیات بھی ہے بہت
تمام عمر کے اس روگ کو برا نہ کہو

اس ایک خوف سے لب سی لیے تمہارے حضور
کہ حرف شوق کو اظہار مدعا نہ کہو

یہ بے رخی کا گلا مجھ سے پہلے خود سے کرو
اسے نگاہ کا یک طرفہ فیصلہ نہ کہو

گزرتے وقت کے مرہم سے بھر نہ جائے کہیں
اس ایک زخم کو چاہت کی انتہا نہ کہو

میں ایک زندہ حقیقت ہوں ایک پل ہی سہی
تمہارا عکس ہوں تم تو مجھے فنا نہ کہو

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم