MOJ E SUKHAN

آنکھوں میں کوئی خواب سجانے نہیں دیا

آنکھوں میں کوئی خواب سجانے نہیں دیا
دل نے مجھے یہ بوجھ اٹھانے نہیں دیا

ضدی بڑا تھا عشق ترا اس کے ایک عمر
یادوں کا کوئی نقش مٹانے نہیں دیا

گھر لوٹنے کا خواب فقط خواب رہ گیا
پنچھی کو راستہ ہی ہوا نے نہیں دیا

مجھ سے ملے گبھی تو یہ پوچھوں کہ کون تھا
وہ شخص جس نے لوٹ کے آنے نہیں دیا

سورج مصیبتوں کا زمیں پر اتر گیا
تیری دعا نے درد اٹھانے نہیں دیا

کچھ مجھ میں حوصلے کی بھی شاید کمی سی تھی
کچھ وقت نے بھی عہد نبھانے نہیں دیا

اور اس کو بھولنے میں بھی اک عمر کٹ گئی
دنیا نے جس کو یاد بھی آنے نہیں دیا

بس کچھ قدم پہ خواب پڑے دیکھتے رہے
قسمت نے ان کو آنکھ اٹھانے نہیں دیا

بارش ہوائیں جگنو ترا پوچھتے رہے
ان سب نے تیرا درد بھلانے نہیں دیا

اس نے ہر ایک سوچ کو پتھر سا کر دیا
آنکھوں کو کوئی اشک بہانے نہیں دیا

مانا رباب اس میں ہوا کا بھی دوش تھا
تم نے بھی تو چراغ جلانے نہیں دیا

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم