آنکھوں میں کوئی خواب سجانے نہیں دیا
دل نے مجھے یہ بوجھ اٹھانے نہیں دیا
ضدی بڑا تھا عشق ترا اس کے ایک عمر
یادوں کا کوئی نقش مٹانے نہیں دیا
گھر لوٹنے کا خواب فقط خواب رہ گیا
پنچھی کو راستہ ہی ہوا نے نہیں دیا
مجھ سے ملے گبھی تو یہ پوچھوں کہ کون تھا
وہ شخص جس نے لوٹ کے آنے نہیں دیا
سورج مصیبتوں کا زمیں پر اتر گیا
تیری دعا نے درد اٹھانے نہیں دیا
کچھ مجھ میں حوصلے کی بھی شاید کمی سی تھی
کچھ وقت نے بھی عہد نبھانے نہیں دیا
اور اس کو بھولنے میں بھی اک عمر کٹ گئی
دنیا نے جس کو یاد بھی آنے نہیں دیا
بس کچھ قدم پہ خواب پڑے دیکھتے رہے
قسمت نے ان کو آنکھ اٹھانے نہیں دیا
بارش ہوائیں جگنو ترا پوچھتے رہے
ان سب نے تیرا درد بھلانے نہیں دیا
اس نے ہر ایک سوچ کو پتھر سا کر دیا
آنکھوں کو کوئی اشک بہانے نہیں دیا
مانا رباب اس میں ہوا کا بھی دوش تھا
تم نے بھی تو چراغ جلانے نہیں دیا
کرن رباب