MOJ E SUKHAN

کون کس کا عذاب ہوتا ہے

غزل

کون کس کا عذاب ہوتا ہے
سب کا اپنا حساب ہوتا ہے

روگ لگتا ہے جن کے سینے کو
ان کا آنسو گلاب ہوتا ہے

تم نے روکا ہو جس قدر اس کو
عشق تو بے حساب ہوتا ہے

حسن چھپتا نہیں چھپانے سے
کچھ تو لازم حجاب ہوتا ہے

جو سمجھتے نہیں مری منشا
بس انہیں اجتناب ہوتا ہے

ہم غلط ہیں غلط ہی رہنے دو
کون بہتر جناب ہوتا ہے

نیند آتی نہیں کبھی ان کو
جن کی آنکھوں میں خواب ہوتا ہے

حشر اپنا بگاڑ لیتے ہیں
تب وہ حاصل خطاب ہوتا ہے

اب تو حالات دیکھ کر مجھ کو
درد بھی بے حساب ہوتا ہے

بول پاتا نہیں جو باتوں سے
اس کا چہرہ کتاب ہوتا ہے

جو کسی کو نہیں ہوا حاصل
وہ مرا انتخاب ہوتا ہے

دل اسی زد میں قید رہتا ہے
جو نہیں دستیاب ہوتا ہے

دل کو سمجھا لیا مگر پھر بھی
کیوں مجھے اضطراب ہوتا ہے

سچ تو معلوم بھی نہیں پڑتا
ہر کسی پر نقاب ہوتا ہے

وقت دے کر عمودؔ دیکھو نا
کون خود بے نقاب ہوتا ہے

عمود ابرار احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم