MOJ E SUKHAN
No Record Found
پاگل پن کی باتیں ہیںچندا ہے دو چار دنوں کاآگے اندھی راتیں ہیں
عظمی جون
پتنگِ شاعری کہنے کو تو تنی ہوئی ہے
کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا
جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا
وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتا
اُس کا خیال ذہن پہ چھایا، چلا گیا
اس کی تلاش ہے مجھے رہ گزر مجاز میں
جب بھی ملتے ہو مجھے خاص بنا دیتے ہو
نظم اسکول
روشنی میں چاندنی میں بے سبب جلتا ہوں میں
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے