MOJ E SUKHAN

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک
وہ میرے ساتھ ساتھ تھا عروج سے زوال تک

نہیں ہے سہل اس قدر کہ جی سکے ہر ایک شخص
بلائے ہجر کی رتوں سے موسم وصال تک

ہماری کشت آرزو یہ دھوپ کیا جلائے گی
تمہارا انتظار ہم کریں گے برشگال تک

عمیق زخم اس قدر بہ دست و روز و شب ملے
کہ مندمل نہ کر سکی دوائے ماہ و سال تک

قبائے زرد و سرخ کا یہ امتزاج الاماں
جمال کو وہ لے گیا پرے حد کمال تک

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم