MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم

ہر خواہش کا دھیرے دھیرے دل سے اتر جانے کا غم

۔

ہر تفصیل میں جانے والا ذہن سوال کی زد پر ہے

ہر تشریح کے پیچھے ہے انجام سے ڈر جانے کا غم

۔

جانے کب کس پر کھل جائے شہر فنا کا دروازہ

جانے کب کس کو آ گھیرے اپنے مر جانے کا غم

۔

یہ جو بھیڑ ہے بے حالوں کی دوڑ ہے چند نوالوں کی

نان و نمک کا بوجھ لیے جلدی سے گھر جانے کا غم

۔

دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے

کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم

۔

عزمؔ اداسی کا یہ صحرا یوں قدموں سے لپٹا ہے

جلنے والوں کو مل جائے جیسے ٹھہر جانے کا غم

عزم بہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم