بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم
ہر خواہش کا دھیرے دھیرے دل سے اتر جانے کا غم
۔
ہر تفصیل میں جانے والا ذہن سوال کی زد پر ہے
ہر تشریح کے پیچھے ہے انجام سے ڈر جانے کا غم
۔
جانے کب کس پر کھل جائے شہر فنا کا دروازہ
جانے کب کس کو آ گھیرے اپنے مر جانے کا غم
۔
یہ جو بھیڑ ہے بے حالوں کی دوڑ ہے چند نوالوں کی
نان و نمک کا بوجھ لیے جلدی سے گھر جانے کا غم
۔
دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے
کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم
۔
عزمؔ اداسی کا یہ صحرا یوں قدموں سے لپٹا ہے
جلنے والوں کو مل جائے جیسے ٹھہر جانے کا غم
عزم بہزاد