MOJ E SUKHAN

قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے

غزل

قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے
گھر پھونک تماشا دیکھ چکے اب جنگل جنگل رونا ہے

ہستی کے بھیانک نظارے ساتھ اپنے چلے ہیں دنیا سے
یہ خواب پریشاں اور ہم کو تا صبح قیامت سونا ہے

دم ہے کہ ہے اکھڑا اکھڑا سا اور وہ بھی نہیں آ چکتے ہیں
قسمت میں ہو مرنا یا جینا اب ہو بھی چکے جو ہونا ہے

دل ہی تو ہے آخر بھر آیا تم چیں بہ جبیں کیوں ہوتے ہو
ہم تم کو بھلا کچھ کہتے ہیں تقدیر کا اپنی رونا ہے

غم کاہے کا یارو ماتم کیا بدلو گے نظام عالم کیا
مرنا تھا رضاؔ کو مرتا ہے یہ کاہے کا رونا دھونا ہے

آل۔ رضا رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم