ان کے آپس کی اِس قُربت کا نعمان اور اس کی بیوی کو بخوبی علم تھا مگر عدنان اپنے جملہ نجی معاملات کو اپنے والدین کے ساتھ بانٹنے سے حد درجہ گُریز کیا کرتا تھا ۔
ایک دن اسمإ عدنان کے کمرے مخل ہونے کے بعد اُس سے بڑے ہی نفیس اور شریفانہ انداز میں ہمکلام ہوتی ہوئی کہنے لگی ،
چھوٹے صاحب اگر اجازت ہو تو ایک بات پوچھ سکتی ہوں ؟
عدنان چہرے پر ایک معنوی مسکان سجھاتے ہوئے بولے ۔
جی بالکل ! یہ بھی بَلا کوئی پوچھنے کی بات ہے
پوچھ لیا کرو جو بھی مَن میں آئے ، پگلی اب اِس میں اجازت کیسی !
چوٹے صاحب آپ بڑے صاحب اور بی بی جی کے سامنے اکثر بُجھے بُجھے سے آخر کیوں رہتے ہو؟ اِس کے برعکس میں غیر ہوں پھر غیر ہونے کے باوجود بھی میرے ساتھ آپ کا برتاؤ تو انتہائی شیرین ،بے تکلف اور بے حد دوستانہ ہے اُنہوں نے مولا کی دی ہوئی ہر شئے آپ کو عطاء کررکھی ہےآخر ایسا کیوں ؟ کیا آپ وجہ بتانا مناسب سمجھتے ہیں اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر بتا دیجیے ؟
عدنان کا چہرہ اسمإ کے اِس معصومانہ سوال کی وجہ سے یک دم مرجھا سا گیا ، وہ چُپ رہا اور اُس کے سوال کا کوٸی بھی جواب نہیں دیا ۔
اسمإ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی مدد سے اپنے کانوں کی لَو کو چُھوتی ہوئی گھبرا کر اللہ کے پیارے ناموں کا ورد کرتی ہوٸی پھر سے عدنان سے ہمکلام ہوئی
توبہ یا مالک توبہ یامہربان میری توبہ
چھوٹے صاحب معافی چاہتی ہوں ، میں نگوڑی کم عقل ہوں پتا نہیں آپ سے یہ کیا پوچھ بیٹھی جویک دم آپ کا کِھلتا ہوا گلاب چہرہ جَٹ سے مُرجھا گیا ۔
عدنان پھر سے چہرے پر ایک مصنوعی مسکان سجھاتے ہوئے کہنے لگا
ارے نہیں نہیں اسمإ ایسی کوئی بات نہیں آپ خواہ مخواہ پریشان ہوئی جارہی ہو !
تو پھر والدین کی اتنی نوازشات اور مالک کی عطاء کردہ اتنے انعامات کے باوجود یہ حالت اور کیفیت آخر کیوں ؟
آپ کو تو اتنی نوازشات پر اپنے والدین کا شکرگزار ہونا چاہیے بجائے اِس کے آپ کی اُن سے یہ دوری کا رویہ کم از کم مجھ نگوڑی کی ناقص فہم سے تو بالاتر ہے اور ایک ایسی گُھتی کہ جسے صرف آپ ہی سُلجھانے پر قادر ہیں ،
اسمإ بات کو جاری رکھتی ہوٸی ۔۔۔۔
چھوٹے صاحب بتا ہی دیں کہ آخر معاملہ کیا ہے جس نے آپ کے تمام تر خیالات کو یکسر منتشر کیئے ہوٸے رکھا ہے ؟
چھوٹےصاحب ویسے سیانے کہا کرتے ہیں کہ دل کا بوجھ دل میں نہیں رکھنا چاہیے اُسے اپنوں کے ساتھ بانٹنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجایا کرتا ہے ۔
عدنان ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔
اسمإ خدارا ٕ ہر شئے کو مادیت کے ترازو میں مت تولہ کرو
تمہیں علم ہے ہر بچے کی بنیادی ضرورت اور خواہش ہے کہ وہ اپنے والدین کے مہر و اُلفت و شفقت کے ساٸے میں پلے پھولے اور اُن کے ساتھ سے ہر لمحہ محظوظ اور بھرپور انداز سے فیضیاب ہو ، اور وہ اُن کی محبتوں اور شفقت کے ساٸے تلے پروان چڑھے ۔۔۔
اسمإ اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر غور سے عدنان کی درد بھری مگر حقیقت پر مبنی باتوں میں مستغرق تھی کہنے لگی
جی بالکل ایسا ہے چھوٹے صاحب !
عدنان بات کو مذید آگے بڑھاتے ہوئے ۔۔۔