MOJ E SUKHAN

گھٹی کا اثر – Ghati Ka Asar

مالکن نے پریشانی کے عالم میں بابا سے سوال کیا

بابا جی اب اس کا کوئی حل یا پِھر کوئی تدبیر نکال کر ہمیں اس مشکل سے نکال دیں للہ ہم آپ کو مالا مال کردیں گے ۔

بابا مسکراتے ہوئے بولے

کیا آپ مجھے اللہ سے اس کی رضا مندی کا پروانہ دلواسکتی ہیں ؟

یا موت کی سختیوں سے بچا سکتی ہیں ؟

یا پھر مجھ سے عذاب قبر ہٹا سکتی ہیں ؟

یا یہ کہ آپ میرے اور جہنم کے بیچ فصیل بن سکتی ہیں ؟

مالکن ! بابا جی جو کام میرے بس کا نہیں تو میں بلا وہ کیسے اور کیوں کر کر سکتی ہوں

بابا کہنے لگے

بس یہی معاملہ ہم دونوں کے بیچ مشترک ہے کہ دونوں بے بس ہیں

جس نطفے کا وجود لقمہء حرام سے، رحم مادر میں نو ماہ قیام اس دوران ماں کی خوارک بھی حرام اور رحم مادر سے دنیا میں آتے ہی پہلی گُھٹی ہی حرام کی ہو اور حرام ہی سے اس کا خمیر پروان چڑھا ہو تو اس میں خیر بلا کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے

بی بی حقوق اللہ کی معافی ہے پَھر حقوق العباد کی بحث ہی الگ ہے اِس میں معافی کی کوٸی گنجاٸش نہیں

رہی بات مجھ پر دنیا لُٹانے کی تو پِھر بیٹا جی یہ بات

اچھی طرح سے سن ،

سن کے زہن نشین کر ،

اور

زہن کے زریعے سے یہ بات دل میں اُتار دے کہ

دنیا تو ہم نے کھبی اُس کے بنانے والے سے طلب نہیں کی جو قادرمطلق و مختار کل ہے تو پھر تیری کیا بِساط اور حیثیت کہ ہم تجھ سے دنیا جیسی نجس شئے کے لیئے سوال کریں،

اگر ہم طالبِ دنیا ہوتے تو آج تُو نہیں بلکہ ہم تیرے در کے سامنے کشکول لیئے کھڑے تجھے لمبی عمر اور کشادہ روزی کی دعا دے رہے ہوتے مگر اچھی طرح سے مشاہدہ کر کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے

ایک تبصرہ چھوڑیں