غزل
اپنی چاہت کا رنگ جدا رکھنا
کچھ خرد سے بھی رابطہ رکھنا
دوریوں میں بھی قربتوں کیطرح
نہیں لب پر کوئی گلہ رکھنا
خود سے گر انتقام لینا ہے
عشق کرنے کا سلسلہ رکھنا
جانے کس راہ سے وہ آجائے
دل کا ہر راستہ سجا رکھنا
خود پرستوں کے درمیاں رہ کر
کھل کے جینے کا حوصلہ رکھنا
جب کبھی خود سے ہم کلامی ہو
اپنے عیبوں کا در کھلا رکھنا
صوفیہ اس جہاں سے جاتے ہوئے
سنگ دعاؤں کا قافلہ رکھنا
صوفیہ حامد خان