Zakhm dil kay youn dikhana chahyee
غزل
زخم دل کے یوں دکھانا چاہیے
رنج میں بھی مسکرانا چاہیے
روٹھے ساجن کو منانا چاہیے
وعدہء الفت نبھانا چاہیے
سننے والا سُن کے جس کو داد دے
حال دل کا یوں سنانا چاہیے
صرف ہاتھوں کو ملانا کچھ نہیں
دل کو بھی دل سے ملانا چاہیے
لوگ کہتے ہیں زمانے کو بُرا
خود کو بھی اچھا بنانا چاہیے
کام کرنے کا سلیقہ بھی تو ہو
سیکھنے کو اِک زمانہ چاہیے
ہم درخشاںؔ ؔٹھہرے موضوعِ سُخن
کچھ تو دنیا کو فسانہ چاہیے
درخشاں صدیقی
Darakhshan siddiqui