MOJ E SUKHAN

دھوپ کی اوڑھنی کو اوڑھے ہوئے

دھوپ کی اوڑھنی کو اوڑھے ہوئے
گھر سے سورج نکل کر آیا ہے
مارچ اپریل کے مہینے میں
کیسا چولا بدل کر آیا ہے
ظلمتِ شب کی تلخ باتوں سے
صبح کے دل گذار لمحوں کے
سینوں پر مونگ دَل کر آیا ہے

سہیل غازی پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم