MOJ E SUKHAN

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے

غزل

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے
اشاروں کو ترے پڑھنے کی جرأت اب ہوئی ہے

عجب لہجے میں کرتے تھے در و دیوار باتیں
مرے گھر کو بھی شاید میری عادت اب ہوئی ہے

گماں ہوں یا حقیقت سوچنے کا وقت کب تک
یہ ہو کر بھی نہ ہونے کی مصیبت اب ہوئی ہے

اچانک ہڑبڑا کر نیند سے میں جاگ اٹھا ہوں
پرانا واقعہ ہے جس پہ حیرت اب ہوئی ہے

یہی کمرہ تھا جس میں چین سے ہم جی رہے تھے
یہ تنہائی تو اتنی بے مروت اب ہوئی ہے

بچھڑنا ہے ہمیں اک دن یہ دونوں جانتے تھے
فقط ہم کو جدا ہونے کی فرصت اب ہوئی ہے

عجب تھا مسئلہ اپنا عجب شرمندگی تھی
خفا جس رات پر تھے وہ شرارت اب ہوئی ہے

محبت کو تری کب سے لیے بیٹھے تھے دل میں
مگر اس بات کو کہنے کی ہمت اب ہوئی ہے

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم