غزل
اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پر
اور دل کی زبانی ہے اوراق شکستہ پر
حال اپنا سنانا ہے اشعار کی صورت میں
یہ عمر گنوانی ہے اوراق شکستہ پر
تحریر پہ دھبوں کی صورت جو منقش ہے
وہ آنکھوں کا پانی ہے اوراق شکستہ پر
رکنا بھی اگر چاہوں مجھ سے نہ رکا جائے
یہ کیسی روانی ہے اوراق شکستہ پر
طاہرؔ مری آنکھوں میں پوشیدہ رہی ہے جو
مورت وہ بنانی ہے اوراق شکستہ پر
طاہر حنفی