MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محفلیں سجتی تھیں دل میں ہائے ویراں ہو گئیں

محفلیں سجتی تھیں دل میں ہائے ویراں ہو گئیں
بے وفا کے جانے سے نظریں پریشاں ہو گئیں

اس کے آنے کا تصور کس قدر ہے خوش جمال
ایسا لگتا ہے کہ شمعیں کچھ فروزاں ہو گئیں

بدلے یوں حالات کہ اب شرم ہے نا کچھ لحاظ
بیبیاں جامے سے باہر ہو کے عریاں ہو گئیں

دم گھٹا جاتا ہے جیسے اف یہ تنہائی نہ پوچھ
دل کی دیواریں بھی کیا دیوارِزنداں ہو گئیں

وہ نہیں میرا مقدر جلتا ہے دل روز و شب
حسرتیں اس دل میں کیسی کیسی مہماں ہو گئیں

مٹ گیا احساس دل سے درد کیا ہے غم ہے کیا
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں

دل لگانے کی ملی تم کو سزا کیسی عروج
بے وفا کے جانے سے یادیں نمایاں ہو گئیں

شاہدہ عروج خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم