محفلیں سجتی تھیں دل میں ہائے ویراں ہو گئیں
بے وفا کے جانے سے نظریں پریشاں ہو گئیں
اس کے آنے کا تصور کس قدر ہے خوش جمال
ایسا لگتا ہے کہ شمعیں کچھ فروزاں ہو گئیں
بدلے یوں حالات کہ اب شرم ہے نا کچھ لحاظ
بیبیاں جامے سے باہر ہو کے عریاں ہو گئیں
دم گھٹا جاتا ہے جیسے اف یہ تنہائی نہ پوچھ
دل کی دیواریں بھی کیا دیوارِزنداں ہو گئیں
وہ نہیں میرا مقدر جلتا ہے دل روز و شب
حسرتیں اس دل میں کیسی کیسی مہماں ہو گئیں
مٹ گیا احساس دل سے درد کیا ہے غم ہے کیا
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں
دل لگانے کی ملی تم کو سزا کیسی عروج
بے وفا کے جانے سے یادیں نمایاں ہو گئیں
شاہدہ عروج خاں