MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا

جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا
مکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا

تھی آرزو کہ رہوں جبر سے محاذ آرا
میں ڈر گیا کہ یہ لمبا سفر اکیلا تھا

نگاہ غیر جسے معتبر بہت ٹھہری
اسے میں کیسے دکھاتا نگر اکیلا تھا

کہاں تلک میں شجاعت کی داد دیتا یہاں
کہ اس کی ساری سپہ میں ادھر اکیلا تھا

بہت مزے میں رہے سرنگوں خجل پودے
ہوائے تیز کی زد میں شجر اکیلا تھا

عبث شریک تھا بے وقت رزم میں شاہیںؔ
دیار غیر میں وہ بے خبر اکیلا تھا

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم